تصور مرشِد کی راہ ہموار کرنے کیلئے شروع میں اس طرح کرنا بھی فائدہ مند ہوسکتا ہیکہ روزانہ چند لمحے ہی سہی،چاہے تو ہر نماز کے بعد، اپنے ذہن میں یہ تصور جمانیکی کوشش کرے، کہ میں نے اپنے پیر و مرشِد کو یہاں ملاقات فرماتے دیکھا، آپ فُلاں مقام پر ُوضو فرمارہے تھے، مجھے فُلاں دن شفقت سے سینے سے لگایا تھا، میرے مرشِد اس طرح بیان فرماتے ہیں، میں فُلاں جگہ سَحری و افطاری کے وقت ان کے ساتھ تھا، میرے مرشِد کسی چیز کا اشارہ اس طرح فرماتے ہیں، مجھے اس دن مسکَراکر دیکھا تھا۔یعنی اس طرح جتنی مرتبہ ملاقات ہوئی یا کہیں بھی زیارت کی سعادت ملی تو وہ تصور میں لانے کی کوشش کرے۔ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ " تصور مرشِد" میں بہت آسانی ہوگی اور مرشِد کی محَبت میں بھی اضافہ ہوگا۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلّ َ جتنی اپنے پیرومرشِد سے محَبت بڑھے گی، گناہ سے دل بیزار ہوگا اور نیکیوں میں حیرت انگیز طور پر دل لگ جائے گا۔
تذکرہ مشائخ تقشبندیہ میں نقْل ہے کہ تصور کو یہاں تک پکا کرنا چاہيے کہ تمام حرکات و سکنات ، نشست وبرخاست، غرض کہ ہر فعل میں، پیشوا (یعنی مرشِد) کی ادائیں آجائیں اور آخرکار پیشوا (یعنی مرشِد) کی صورت کے مشابہ ہوجائے، کہ اسی سے پھر آگے کا راسۃکھل جاتا ہے۔