سرکا رمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ،صاحبِ معطر پسینہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا! تم اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے ، تو یہ ضَرور یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے" (صحیح البخاری رقم ۵۰ ،ج ۱ ،ص ۳۱)
حقیقی کامیابی مگر انسان کے لئے بے دیکھے تصور مشکل ہوتا ہے، کیونکہ
نہ تو ہم نے اپنے پیارے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا اور نہ ہی اپنے پیارے پیارے آقا صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت کی۔ ہمیں اپنے پیارے پیارے شہد سے بھی میٹھے مرشِد سے مَحبت بھی اسی لئے ہے ، اور ہم ان سے عقیدت بھی اسی لئے رکھتے ہیں۔ کہ یہ اللہ و رسول ( عَزَّوَجَلَّو صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) کے پیارے ہیں۔
اس لحاظ سے اگر اپنے پیرو مرشِد کا تصور کرنے کی کوشش کی جائے، تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ شکل مبارکہ آئینہ حق نما بن جائے گی۔ کچھ عرصے کوشش کے بعد ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ(تصور مرشِد کی برکت سے) اس سے تصور مصطفٰی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمحاصل ہوگا ، اور پھرپاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی صفات پر بھی دھیان جم ہی جائے گا، جو کہ ہمارا اصل مقصود ہے۔ پھر ہمیں ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ کامل تصور بھی حاصل ہوجائے گا! کہ " اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دیکھ رہا ہے" اور یہ تصور ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں گناہوں سے بچنے میں بھی مدد دے گا۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا والے کاموں میں بھی لگادے گا۔ اور یہ ہی اصل کامیابی ہے۔
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرَحمۃ فرماتے ہیں! " تصور ِمرشِد"کا قائم ہو جانا پیرومرید کے درمیان کامل نسبت کی علامت ہے، اور بارگاہ ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں پہنچنے کا کوئی راستہ اس سے زیادہ قریب کا نہیں ہے۔(مکتوبات جلدسوم)
اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے " انتباہ فی سلاسل اولیااللہ " میں،اوراعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے " الیاقوت الواسطہ میں"تصور ِشَیخ اور تصور ِمصطفٰی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمکو خدا تک پہنچنے کا راستہ بتایا ہے"(اسلئے) کہ تَصَوُّف میں تصور مرشِد کے ذریعے روحانی تربیت ہوتی ہے۔(انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، ص ۴۱، ۴۲)