Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
128 - 269
مثلًا پیرو مرشِد بڑوں کی اطاعت، سنجیدگی اور قفلِ مدینہ (یعنی زبان، نگاہ بلکہ اپنے ہرعُضْوْکو اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نافرمانی والے کاموں سے بچانے کی کوشش ) کو پسند فرماتے ہوں، تو ان کی پسندلازمی اپنائے اور مرشِد کے عطا کردہ نظام بالخصوص مرکزی مجلسِ شوریٰ و دیگر مجالس اور جس کے بھی ماتحت ہیں ان کی اِطاعت کرے، اور سنجیدہ رہنے کی کوشش کرے۔ ورنہ زیادہ بولنے والا یا فُضول باتوں کا عادی الٹا نقصان اٹھا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر مرشِدِ کامل کا دل اس مرید سے زیادہ خوش ہوتا ہے،۔ جو یہ ذہن رکھتا ہو!کہ '' مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلا ح کی کوشش کرنی ہے'' تو مرید اگر مرشِد کامل سے خصوصی فیض کا طلبگار ہے، تو اسے اپنے پیرو مرشِد کی خواہش کے مطابق اپنے شب و روز مَدَنی انعامات کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے مَدَنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنائے اوردیگر مَدَنی کاموں کی ترقی کیلئے کوشش میں وقت گزارے کہ اس سے پیرومرشِد کا دل خوش ہوگا۔ اور وہ اس مرید پر توجہ خاص سے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ تصور کے راستے کی تمام رکاوٹیں دورفرمادیگا۔ پھروہ خوش نصیب مرید ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ با آسانی تصورِ مرشِد کا مقصد (یعنی اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا والی زندگی )پالے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ د یکھ رہا ہے
انسان کو کامیاب زندگی گزار نے کیلئے یہ تصور رکھنا ضَروری ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دیکھ رہا ہے تاکہ یہ مَدَنی تصور اسے گناہوں سے روکے، اور نیکی کی راہ میں رَاہنمائی کرے۔قرآنِ پاک میں کئی جگہ اس '' مَدَنی تصور'' کی طرف دھیان دلایا گیا ہے۔
Flag Counter