| آدابِ مرشدِ کامل |
میں مرشِد کا جلوہ سمایا رہے۔ چلے تو انکے انداز میں، بیٹھے تو سوچے کہ میرے مرشِد اسطرح بیٹھتے ہیں، کھانا کھائے تو ان کا انداز اپنائے۔ جہاں موقع ملے مرشِد کی باتیں بیان کرے، ان کے ملفوظات شریف کی اشاعت کرے، ان سے ظاہر ہونے والی بَرَکتوں کا خوب تذکرہ کرے !کہ یہ پیرو مرشِد سے مَحبت کی دلیل ہے۔جامع صغیر میں ہے کہ جس چیز سے جتنی زیادہ مَحبت ہوتی ہے۔ اس کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے۔(الجامع الصغیر مع فیض القدیر ، حرف المیم ، رقم ۸۳۱۲ ، ج ۶ ،ص ۴۰)
مَحبوب کا ذکر
شَیخ عبدالحق محدث دہلوی قُدِّسَ سِرُّہ اَخبارُ الاخیار کے مقدمہ میں ارشاد فرماتے ہیں ! کہ عاشق کو اپنے مَحبوب کا تذکرہ اچھا لگتا ہے، اور مَحبوب بھی عاشق کا ذکر کر نا پسند کرتا ہے ۔ ان بُزُرگوں کا تذکرہ ایسی عبادت ہے، جسے ہر آدمی ہر حال میں ادا کرسکتا ہے اور اس طرح اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب نصیب ہوسکتا ہے۔یعنی جب مرید کے ذہن میں ہر وقت مرشِد کا خیال رہے گا اوروہ اپنے مرشِدِ کامل کاذکرِ خیر کرتا رہے گا تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ ذہن تصور کے لیے تیار ہوتا چلا جائے گا۔(اخبار الاخیار ، ص ۶ )
ضَروری بات
مگر یہ یاد رہے! کہ منزلِ مراد تک وہ ہی شخص پہنچ سکتا ہے۔ جو ہرہر لمحے مرشِد کامل کا اَدَب ملحوظ رکھے۔ چاہے سامنے ہو یا دور ،ورنہ مرشِد کامل کے فیض سے مَحروم رہے گا۔ اسلئے مرید کو چاہیے !کہ وہ اپنے مرشِد کی طبَیْعَت سے واقف ہو۔ تاکہ انکے خلافِ مزاج کوئی کام نہ صادر ہو جائے۔ بلکہ آپ کو ان کاموں میں زیادہ سے زیادہ مشغول رکھے جن کاموں کومرشِدِ کامل پسند فرماتے ہوں