تِرمذی شریف (ج۵،ص۵۰۳،رقم۸)میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت موجود ہے ! کہ انہوں نے اپنے ماموں ہند بن اَبی ہالہ رضی اللہ عنہ سے نبیِ مکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حلیہ مبارَکہ پوچھا!تا کہ وہ اپنے ذہن میں مَحفوظ کرسکیں۔
عُلَماءِ کِرام اس حدیث سے تصورِ شَیخ کی دلیل لیتے ہیں۔ مزید احادیث سے بھی یہ ثابت ہے! کہ صحابی ایسی حدیث بیان کرتے وقت فرماتے ہیں!'' گویا میں رسولُ اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھ رہاہوں''(صحیح البخاری ، رقم ۶۹۲۹ ، ج۴ ،ص ۳۸۰)
مواہب اللدنیہ اور کتب فقہ میں بھی اس بات کی تصریح موجود ہے، کہ روضہ رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حاضری کے وقت زائر کو چائیے ، کہ حضور انور صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرہ اقدس کا تصور کرے۔ان تمام دلائل سے بھی تصور ِشَیخ کا ثُبوت ملتا ہے۔(المواھب اللدنیہ ، المقصد العا شر ،الفصل الثانی من آداب الریادۃ ، ج ۴ ، ص ۵۸۱)