معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مقرب بننے کا اعلیٰ و عظیم انعام پانے (یعنی فنا فی الرسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہوکر فنافی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہونے ) کی پہلی سیڑھی فنافی الشَیخ ہے۔یعنی سالِک اپنے آپ کو مرشِد سے الگ نہ سمجھے۔ بلکہ خیال کرے، کہ میرے جسْم کی حَرَکت و سُکون میرے مرشِد ہی کے اختیار میں ہے ۔اور میرا مرشِد ہی مجھے سمجھ سکتا ہے۔ اور ظاہرو باطن کی اصلاح کرسکتا ہے۔ اپنے طور طریقوں سے یہ ظاہر کرے، کہ اپنے وُجود پر اس کا کوئی اختیار نہیں اور طرزِ عمل میں ریاکاری اور خود پسندی سے بالکل دور رہے۔ (مگر یہ یاد رہے) کہ فنافی الشَیخ کی پہلی منزل تصورِ مرشِد کا مکمل قائم ہونا ہے۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ تصورِ مرشِد مریدین کی ترقی کے لئے کس قدر اَہمیت کا حامل ہے۔