اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے کم وبیش چالیس قلْب کے خَطَرات کی نشاندہی فرمائی ہے۔(۱)رِیا(۲)عُجْب(یعنی خودپسندی)، (۳)حَسَد، (۴)کینہ ،(۵) تکبر، (۶)حُبِّ مدح (یعنی تعریف کی خواہش )،(۷)حُبِّ جاہ(یعنی عزت کی خواہش)،(۸) مَحبّتِ دنیا، (۹) طلبِ شہرت،(۱۰)تعظیمِ اُمراء،(۱۱)تَحقِیر مساکین،( ۱۲)اتباعِ شَہوت،(۱۳)مدَا ہنت(یعنی دینی معاملات میں سستی) (۱۴) کفرانِ نعم (یعنی ناشکری) (۱۵)حِرْص، (۱۶)بُخْل،(۱۷) طولِ اَ مَل(یعنی لمبی امید) (۱۸)سوئے ظن (براگمان) ،(۱۹)عِنادِ حق(حق سے دشمنی) (۲۰)اصرارِباطل، (۲۱)مکر، (۲۲)غَدَر(یعنی دھوکا)،(۲۳)خِیانت، (۲۴)غفلت،(۲۵)قَسْوَت (یعنی سختی) (۲۶)طمع،( ۲۷) تملُّق(چاپلوسی کرنا)، (۲۸)اعتمادِ خلْق(یعنی مخلوق پر اعتماد)،(۲۹) نِسیانِ خالق (یعنی خالق کو بھول جانا) (۳۰)نِسیانِ موت(یعنی موت کو بھول جانا)، (۳۱) جرات علی اللہ، (۳۲)نِفاق، (۳۳)اتباعِ شیطان،( ۳۴) بندگیِ نفْس( یعنی نفس کی اطاعت)، (۳۵) رغبتِ بَطالت(یعنی باطل کی طرف رغبت)، (۳۶) کراہتِ عَمَل، (۳۷) قِلّتِ خَشْیَت(یعنی خوف کی کمی)، (۳۸) جزع (یعنی بے صبری)،( ۳۹)عدمِ خُشوع(یعنی خشوع کا نہ ہونا)،( ۴۰) غضب للنفس و تساہل فی اللہ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے معاملات میں سستی کرنا) وغیرہ۔ (فتا وی افریقہ ، ص ۱۳۳)