| آدابِ مرشدِ کامل |
(۲) مُنہیات قَلبیہ: (یعنی وہ قلبی افعال جن سے رکنے کا حکْم ہے) جیسے کفْر، نِفاق، تکبر، عجب (خودپسندی) رِیا، غُرور، کینہ اور حَسَد وغیرہ۔ (حقائق عن التَصَوُّف، ۲۶)
اَہم ترین اعما ل
اگرچہ دونوں قسم کے اعمال ( جسْمانی اور قلبی) اَہم ہیں مگر رسولُ اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نزدیک قلب سے متعلق اعمال ـ'' جسْمانی اعمال '' سے زیادہ اہم ہیں ۔ کیونکہ باطن، ظاہر کیلئے اساس اور جائے صدور ہے،'' اعمالِ قلبیہ '' اعمالِ ظاہرہ کے لئے بنیاد ہیں۔ اعمالِ قلبِیہ میں فساد کے سبب ، اعمالِ ظاہرہ میں خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ قرآن میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔۔۔
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡ لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪
ترجمہ کنزالایمان: تو جسے اپنے ربّ سے ملنے کی امید ہو، اسے چاہے کہ نیک کام کرے اور اپنے ربّ کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔( سورۃ الکہف ، آیت۱۱۰) اس آیت میں دل کی صفائی کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے یہاں، حُضور و شہود کے لیے، ضَروری شرط ٹھہرایا گیاہے۔