جب یہ عمدہ ترین " اَدوار" گزر گئے تو حضور صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے سے دور ہونے کے ساتھ ساتھ، روحانیت بھی کمزور ہونے لگی ۔ اور لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندگی سے غافل ہونے لگے ۔ تو اربابِ ریاضت و زہد نے،دعوت الی الحق اور توجہ الی اللہ کے لئے علم تَصَوُّف کی تدوین کی۔
معلوم ہوا! " تَصَوُّف وطریقت " کوئی نئی اصطلاح نہیں ، بلکہ یہ سیرت رسول صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حیات صحابہ علیھم الرضوان سے ماخوذ ہے۔ اور تَصَوُّف وطریقت کی اَساس، اِس "امّت "کے سَلَف و صالحین علیھم الرَحمۃ جلیل القدر صحابہ، تابعین ، تبع تابعین علیھم الرضوان کے طریقے پر ہے۔ اور یہ طریقہ عین اسلام سے عملی مطابِقت کا ہی نام ہے۔
شَیخ اَحمد زروق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں!جس طرح عُلَماء ظاہر نے حدودِ شرِیعہ کی حفاظت کی ہے، اسی طرح عُلَماءِ تَصَوُّف نے شرِیْعَت کی روح اور آداب کی حفاظت کی ہے۔( فوائد التَصَوُّف، ۲۹۵)