Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
119 - 269
عبادات کی طرف متوجہ تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی میں جلدی اور دوسروں سے سبقت لے جانیکی کوشش کرتے تھے۔ ان لوگوں کو کسی ایسے علم کی ضَرورت نہ تھی جو ان کی تَصَوُّف کے مقاصد کی طرف راہنمائی کرے۔ کیونکہ وہ ان مقاصد کو عَمَلی طور پر حا صل کرچکے تھے۔
مَدَنی مثال
اس کی مثال اس طرح سمجھئے !کہ ایک خالص" عَرَب " لُغَتِ عَرَبی کونسلا ًجانتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اشعارِ بلیغہ کی تراکیب سے بھی فطری طور پر واقف ہے۔ اگرچہ وہ لُغَت ،صَرْف و نَحوشعر،عُروض اور قَوافی کے قا عدوں سے نا آشنا ہو ۔ تو ایسے شخص کو صرف و نحو اور عروض و قوافی وغیرہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔ان چیزوں کے سیکھنے کے ضَرورت اس غیرِعَرَب کو ہے، جو لغتِ عربی کو سمجھنے کا خواہش مند ہو۔
اہل تَصَوُّف کون
اگرچہ صحابہ و تابعین علیھم الرضوان کو " متَصَوُّفین" کا نام نہیں دیا گیا ۔مگر عمَلًا و فعلًا ، وہ اَہلِ تَصَوُّف تھے۔ کیونکہ ' تَصَوُّف و طریقت '' ساراکا سارایہی ہے۔ کہ بندہ نفسْ کے بجائے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے لئے زندہ ہو ۔ اور اپنے تمام اوقات میں روح و قلْب کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف متوجہ رہے۔ یہ تمام کمالات صحابہ کرام علیھم الرضوان میں بدَرَجہ اولیٰ موجود تھے۔انہوں نے اسلامی اعتقادات کے اقرار اور فرائض اسلام کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہ کیا ،بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ذوق اور وَجدان کو بھی ملایا اور حضورِ اکرم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسندیدہ جمیع نفْلی عبادات پر بھی عمل پیرا رہے، وہ مُحَرَّمات (حرام کاموں) کے علاوہ مکروہات سے بھی دور رہے۔حتٰی
Flag Counter