| آدابِ مرشدِ کامل |
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمیْنَ وَ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ المُرسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْم ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ؕ
آدابِ مرشِدِ کامل(حصہ سِوُّم)
عاشقِ اعلیٰ حضرت ،امیرِ اَہلسنّت با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَا لِیَہ اپنے رسالے ضیائے دُرُودوسلام میں فرمانِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نقْل فرماتے ہیں،''جس نے مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُ س پر دس رَحمتیں بھیجتا اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھتا ہے۔
(جامع التر مذی ، کتاب الوتر ، رقم ، ۴۷۴، ج۲ ، ص ۲۸)
صَلّو ا علیٰ الْحَبيب! صَلَّی اللہ تَعالیٰ علیٰ مُحَمَّد
تصوّف و طریقت کی اِبتَداء ایک سوال کا جواب
تَصَوُّف کی مایہ ناز کتاب '' حقائق عن التَصَوُّف '' میں مصنف تَصَوُّف کی اِبتَداء و اَہمیّت سے متعلق بڑے مُدَلَّل انداز میں تَحریر فرماتے ہیں ! کہ بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے!کہ اسلام کی شُروعات میں دعوتِ تَصَوُّف و طریقت عام نہ تھی ۔ اس کا ظُہور توصحابہ و تابعین علیھمُ الرِضوان کے زمانے کے بعدہوا ۔ اس کا جواب یہ ہے !کہ صحابہ و تابعین علیھم ُالرِضوان کے زمانے میں نبیِ کریم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے قُربِ اِتِّصال کے سبب دعوتِ تَصَوُّف کی ضَرورت نہ تھی۔
مَدَنی وجوہات
چونکہ اُس متبرّک دور میں لوگ متقی، پرہیزگار ، اَہلِ مجاہدہ اور طبعًا