| آدابِ مرشدِ کامل |
حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب علیہ الرحمۃ حضر ت پیر بڈھن شاہ کلانوری علیہ الرحمۃ کا واقعہ(اَدَب سیکھانے کیلئے ) اکثر سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے مرشِد کامل کی صاحبزادی کیلئے زیور بنوایا۔ جب وہ تیار ہوگیا تو سنار نے عرْض کی ، حضور زیورتیار ہے ۔حکْم ہو تو لاکر وزْن کردوں۔ پیر بڈھن شاہ صاحب علیہ الرحمۃ بولے (ٹھہرو) وہ زیور حضور پیرو مرشِد کی حاحبزادی کا سنگھار ہے میں دیکھوں گا تو بے اَدَب ہو جاؤں گا۔ پھر جب آپ باہر تشریف لے گئے تو سنار نے زیور کا وزْن کیا۔ ( ماہنامہ السلسبیل ۱۹۴۷)
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(23)پیر خانے کا مہمان
اسی طرح ایک دفعہ حضرت پیر بڈھن شاہ کلانوری علیہ الرحمۃ کے مرشِد کے گاؤں کا خاکروب(یعنی جھاڑو دینے والا) آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی رہائش گاہ میں رکھے ہوئے چمڑے کے ایک بنڈل پر بیٹھ گیا۔ آپ حجرہ سے باہر تشریف لائے تو خاکروب کو پلنگ پر عمدہ بستر بچھا کر بٹھایا، اور خدام کو حکْم دیا کہ اس
ایسی نظریں جھکیں پھر کبھی نہ اٹھیں
دیدے ایسی حیا میرے مرشِد پیا
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو