Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
108 - 269
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
 (18)مرشِد کامل کے نعلین کا اَدَب
    حضرت امیر خسرو علیہ الرحمۃ کو اپنے مرشِد سے نہ صرف عقیدت و مَحبّت تھی، بلکہ کمال دَرَجہ کا عشق بھی تھا۔ اس کی ایک نادر مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ کسی درویش نے خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمۃ کی خدمت میں آکر سُوال کیا۔

    اتفاق سے لنگر خانے میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جو اسے دی جاتی۔خواجہ صاحب علیہ الرحمۃ نے درویش سے کہا کہ اتفاق سے آج کوئی شے نہیں آئی۔ البتہ کل کی فتوح تمہیں دیدی جائے گی، مگر دوسرے دن بھی کوئی شے نہ آئی۔ تب خواجہ صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنے پاؤں سے نعلین شریف(یعنی جوتیاں) اتار کر درویش کو دے دیں اور رخصت کیا۔

مرشِد کی خوشبواتفاق سے اس وقت امیر خسرو علیہ الرحمۃ بادشاہ کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔ راستہ میں وہی درویش مل گیا۔آپ علیہ الرحمۃ کو جب پتا چلا کہ یہ شہرِ مرشِد سے آرہا ہے تو،آپ نے درویش سے اپنے پیرو مرشِد (حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمۃ) کی خبر پوچھی ۔ جب درویش گفتگو کرنے لگا تو امیر خسرو علیہ الرحمۃ بے ساختہ بول اٹھے ۔ مجھے اپنے پیر روشن ضمیر کی خوشبو آرہی ہے۔ شاید ان کی کوئی نشانی تیرے پاس ہے ۔ درویش نے یہ سن کر خواجہ صاحب علیہ الرحمۃ کی نعلین شریف سامنے کر دی اور کہا یہ مجھے عنایت کی گئی ہیں۔

نعلین شریف امیر خسرو علیہ الرحمۃ اپنے مرشِد کامل کے نعلین شریف دیکھ کر بے تاب ہوگئے او ر درویش سے کہا کیا تم انہیں فروخت کرنے کو تیار ہو۔درویش آمادہ ہوگیا۔
Flag Counter