| آدابِ مرشدِ کامل |
امیر خسرو علیہ الرحمۃ کے پاس اس وقت پانچ لاکھ نقرئی ٹنکے تھے۔جو سلطان نے دئيے تھے۔ آپ نے وہ سب کے سب درویش کو دے کر اپنے مرشِد کامل کے نعلین شریف لے لئے ۔او ر اپنے سر پر رکھ کر چل پڑے ۔
پھر مرشِد کی خدمت میں حاضر ہوکر عرْض کی کہ ''درویش نے نعلین کے بدلے میں پانچ لاکھ پر ہی اکتفا کر لیا۔ ورنہ وہ ان نعلین شریف کے بدلہ میں میری جان بھی مانگتا تو بھی میں دینے سے دریغ نہ کرتا۔(انوار الاصفیاء ص ۳۳۵)صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
(19)جنّتی دروازہ
حضرت پیر سَیِّدغلام حیدر علی شاہ صاحب جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمۃ کی طبَیْعَت ناساز تھی ۔حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمۃ کو حکْم ہوا کہ عطّار کی دوکان سے جاکر نسخہ بند ھوالائیں ۔آپ علیہ الرحمۃبیٹھے دکان میں نسخہ بندھوا رہے تھے کہ شور ہوا، ایک بُزُرگ پالکی میں سوار ہوکر آرہے ہیں۔ اور منادی (ندا کرنے والا) ان کے آگے آگے ندا کررہا ہے جو اِن کی زیارت کریگا (ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ )وہ جنّتی ہوگا ۔لوگ جُوق در جُوق زیارت کو جارہے تھے۔ لیکن بابا
ایسا غم دے مجھے ہوش بھی نہ رہے مست ا پنا بنا میرے مرشِد پیا اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو