حضرت علامہ قشیری علیہ الرحمۃ اپنے مرشِد کامل ابو علی دَقاق علیہ الرحمۃ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب کبھی وہ اپنے پیر و مرشِد نصرآبادی علیہ الرحمۃ کے پاس جاتے تو پہلے غسل فرماتے پھر ان کی مجلس میں جاتے۔
علامہ قشیری علیہ الرحمۃ تو اپنے مرشِد سے بھی ایک قدم آگے بڑھے ہوئے تھے۔ آپ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ اِبتَدائی زمانہ میں جب بھی میں اپنے مرشِد کریم( ابو علی دقاق علیہ الرحمۃ) کی مجلس میں جانے کی سعادت پاتا تو اس دن روزہ رکھتا، پھر غسل کرتا۔تب میں اپنے پیرو مرشِد (ابو علی دقاق علیہ الرحمۃ) کی مجلس میں جانے کی ہمت کرتا۔ کئی بارتو ایسا بھی ہوا کہ مدرسہ کے دروازہ تک پہنچ جاتا۔مگر مارے شرم کے دروازے سے لوٹ آتا۔اور اگر جرأت کرکے اندر داخل ہو بھی جاتا مگر جیسے ہی مدرسے کے درمیان تک پہنچتاتو تمام بدن میں ایسی سنسنی پیدا ہوجاتی۔( اور جسْم ایسا سُن ہوجاتا) کہ ایسی حالت میں اگر مجھے سوئی بھی چبھودی جاتی تو شاید میں مَحسوس نہ کرتا۔(الرسالۃ القشیریۃ ، باب الصحبۃ ، ص ۳۲۸)