Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
105 - 269
 (15) توبہ پر استقامت
    ابو عمر اسماعیل بن نجید نیشا پوری رحمہم اللہ حضرت جُنید علیہ الرحمۃ کے اصحاب میں سے تھے۔آپ نے ۳۶۶؁ھ میں مکہ معظمہ میں وصال فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے شروع میں حضرت ابو عثمان حیری قدس سرہ کی مجلس میں توبہ کی پھر کچھ عرصے اس توبہ پر قائم بھی رہا۔ مگر ایک دن اچانک پھر دل میں گناہ کا خیال آیا اور مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا۔ چنانچہ میں نے مرشِدِ کامل کی صحبت سے(ندامت کی وجہ سے) منہ پھیر لیا(یعنی ان کی بارگاہ میں حاضر ی دینا چھوڑ دی)یہاں تک کہ آپ کو دور سے آتا دیکھتا۔تو شرمندگی کی وجہ سے بھاگ کھڑا ہوتا۔ یا(چھپ جاتا) کہ ان کی نگاہ مجھ پر نہ پڑے۔

دشمن کی خوشیاتفاق سے ایک دن آپ سے سامنا ہوگیا۔ آپ مجھ سے فرمانے لگے بیٹا! اس وقت تک اپنے دشمن کی صحبت اختیار نہ کرو۔جب تک تمہارے اندر اس سے بچنے کی طاقت پیدانہ ہوجائے۔کیونکہ دشمن تیرے عیب دیکھتے(یعنی تلاش) کرتے ہیں۔اگر تیرے اندر عیب ہوں گے تو (تیری بری حالت دیکھ کر) دشمن خوش ہونگے۔

دشمن کا غم اگرتو صاف (یعنی باعمل و متقی) ہوگا تو دشمن غمگین ہونگے۔ اگر (نفس و شیطٰن کو غلبے کی وجہ سے) گناہ کرنے ہی کو تیرا جی چاہتا ہے۔ تو میرے پاس آ، تاکہ تیرا بوجھ میں اٹھالوں (یعنی نفس و شیطان کے وار سے تیری حفاظت کروں) اور تو دشمن کا مقصد (یعنی کہ وہ تجھے بے عمل او رگناہوں میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں) پورا نہ کرے۔

    ابو عمر علیہ الرحمۃ کا بیان ہے کہ ''مرشِد کامل'' کے یہ اصلاحی اور پر اثر جملے سنتے ہی
Flag Counter