معلوم ہوا کہ جس کام کیلئے پیرو مرشِد منع کریں تو اس سے باز رہا جائے ۔ کسی تاویل سے اس کی گنجائش نہ نکالی جائے اور نہ ہی اس حکْم کے فوائد و نقصانات پر غور کریں۔ کیونکہ مرشِد کا مل ہمیشہ اپنے مریدوں کیلئے بہتر ہی ارشاد فرماتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں ،بیکار باتوں سے تو ہر وقت پر ہیز ہونا چاہے اور مرشِد کے حضور تو خاموش رہنا ہی افضَل ہے۔ہاں ضَروری مسائل پوچھنے میں حَرَج نہیں ۔اولیاء کرام تو فرماتے ہیں کہ مرشِد کامل کے حضور بیٹھ کر ذکر بھی نہ کیا جائے۔ کہ ذکر میں دوسری طرف مشغول ہوگا۔ اور یہ حقیقتاً ممانعَت ذکر نہیں بلکہ تکمیلِ ذکر ہے کہ وہ (جو اپنے طور پر) کریگا، بِلا تَوَسُّل ہو گا۔ اور مرشِد کامل کی توجہ سے جو ذکر ہوگا ۔وہ مُتَوَسُّل ہوگا۔ یہ اس سے بدرجہا افضَل ہے۔(پھر فرمایا) اصلْ کار حُسنِ عقیدت ہے۔ وہ نہیں تو کچھ فائدہ نہیں اور اگر صرف حسنِ عقیدت ہے تو خیر۔اتصال تو ہے (پھر فرمایا) پر نالے کے مثل فیض پہنچے گا۔ بس حسن عقیدت ہوناچاہے۔ (الملفوظ حصہ سوم ص۳۰۹)