Brailvi Books

آدابِ مرشدِ کامل
103 - 269
خدمت اقدس میں حاضر رہا۔ اور اس دَرَجہ خدمت کی کہ نفس کو کبھی آپ کی خدمت کی وجہ سے راحت نہ دی۔ نہ دن دیکھتا تھا اورنہ رات۔ جہاں آپ سفر کو جاتے سونے کے کپڑے اور توشہ سامان اٹھا کر ہمراہ ہوجاتا۔ جب آپ نے میری خدمت اور عقیدت دیکھی تو ایسی کمال نعمت عطا فرمائی جس کی کوئی انتہا نہیں۔

    معلوم ہوا کے پیرو مرشِد کی خدمت کا موقع ملنے پر مرید اپنے لئے اسے بڑی سعادت سمجھے اور کسی صورت اس موقع کو ضائع نہ کرے۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو اعَلَی الْحَبِيب     صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلیٰ مُحَمَّد
 (14) قفلِ مدینہ کی ضَرورت
    حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نے شَیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایک جرأت اپنے پیرو مرشِد حضرت شَیخ قطبُ الدین بَختیار کاکی رضی اللہ عنہ کے سامنے کی تھی۔ 

    معاملہ کچھ یوں ہوا کہ میں نے ایک دفعہ اپنے شَیخ سے اجازت مانگی کہ گوشہ نشین ہوجاؤں۔ شَیخ قُطبُ الدین بَختیار کاکی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ(ابھی ضَرورت)نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا کہ مرشِدِ کامل پر میرا حال روشن ہے کہ میری نیت شہرت کی ذرا بھی نہیں ہے ۔ میں شہرت کیلئے نہیں کہتا۔ جس پر میرے پیرو مرشِد شَیخ قطبُ الدین رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ اس واقعہ کے بعد میں ساری عمر سخت شرمندہ رہا اور توبہ کرتا رہا کہ ایسا
Flag Counter