حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بُزُرگ سو برس تک خدا کی عبادت کرتے رہے۔ دن کو روزہ رکھتے اور رات کو قیام فرماتے اور ہر آنے جانے والے کو عبادتِ الہٰی کی تلقین فرماتے ۔ا ن کے انتقال کے بعد لوگوں نے انہیں جنّت میں دیکھ کر ان کا حال پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ میری رات دن کی عبادت جنّت میں داخلے کا باعث نہیں ہوئی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے پیرو مرشِد کی خدمت کی وجہ سے بخشا ہے۔
آپ قدس سرہ مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ قِیامت کے روز اولیاء صدیقین اور مشائخ طریقت رحمہم اللہ کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو ان کے کندھوں پر چادریں پڑی ہونگی اور ہر چادر کے ساتھ ہزاروں ریشے لٹکتے ہوں گے۔ ان بُزُرگوں کے مریدین او ر عقیدت مندان ریشوں کو پکڑ کر لٹک جائیں گے اور ان بُزُرگوں کے ساتھ پل صِراط عُبور کرکے جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔(دلیل العارفین مع ھشت بہشت ، ص ، ۸۲ ، مطبوعہ شبیر برادرز )
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو