ایک بدایونی صاحب جو کہ مرشِدِ اعلیٰ حضرت سَیِّد شاہ آل رسول رضی اللہ عنہ کے خاص مرید تھے۔ سوچنے لگے کہ معراج چند لمحوں میں کس طرح ہوئی ہوگی۔اس وقت سَیِّدی شاہ آلِ رسول رضی اللہ عنہ وُضو فرمارہے تھے۔اپنے اس مرید سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ ذرا اندر سے تولیہ اٹھا لاؤ۔وہ صاحب اندر گئے تو ایک کھڑکی نظر آئی۔ جھانک کر دیکھاتو پر فضا باغ نظر آیا تو نیچے اتر گئے۔سیر کرتے کرتے ایک عظیم الشان شہر میں داخل ہوئے ۔وہاں کاروبار شروع کردیا۔ شادی کی اور اولاد بھی ہوئی۔ اسی حال میں 20 سال گزر گئے۔
یکْ بَیَک حضرت سَیِّد شاہ آل رسول رضی اللہ عنہ کی آوز سنی، گھبرا کر دیکھا تو کھڑکی نظر آئی ، فوراً داخل ہوکر تولیہ لیتے ہوئے دوڑے۔کیا دیکھتے ہیں کہ ہُنوز قَطَراتِ آب(پانی کے قطرے) آپ رضی اللہ عنہ کے چہرے مبارَک پر موجود ہیں اور آپ وہیں تشریف فرماہیں ۔ دست مبارَک ترہیں۔ یہ دیکھ کر وہ صاحب حیرت زدہ اور انتہائی حیرت زدہ تھے سَیِّد ی شاہ آلِ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تبسّم فرمایا اور اپنے اس مریدسے مخاطِب ہو کر فرمایا ۔ آپ وہاں بیس برس رہے۔ شادی بھی کی اور یہاں ابھی تک وُضو بھی خشک نہیں ہوا۔ اب تو معراج کی حقیقت سمجھ گئے۔ ( مَحفلِ اولیا ء ص۵۶۱)
اللہ عَزّوَجَلَّ کی ان پر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو