سلسلہ عالیہ قادِریہ کے ممتاز بُزُرگ ،مرشِدِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ،سَیِّد شاہ آل رسول رضی اللہ عنہ جو ۱۲۰۹ ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۸ ذی الحجہ ۱۲۹۶ھ میں انتقال ہوا۔ حضور اچھے میاں قدس سرہ کے خلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔ تہجد کی نماز بھی کبھی قضاء نہیں ہوتی تھی۔ نہایت کریم ، نفیس اور عیب پوش تھے ۔
ایک مرتبہ مفتی عین الحسن بل گرامی علیہ الرحمۃ نے جن کا کشْف بہت بڑھا ہوا تھا۔ جماعت میں شریک ہوئے ، مگر پھر نیت توڑد ی اور سلام کے بعد امام صاحب سے فرمانے لگے کہ نماز پڑھتے ہوئے(خدا عَزَّوَجَلَّ کے سامنے) خیالات میں بازار جانے اور سودا خریدنے کی کیا ضَرورت ہوئی تھی۔ہم کہاں کہاں تمہارے پیچھے پریشان پھریں؟
مرشِدِاعلیٰ حضرت سَیِّد شاہ آلِ رَسول رضی اللہ عنہ نے مفتی عین ُالحسن بلگرامی علیہ الرحمۃ پر سخت عِتاب کیا اور فرمایا کہ یا تو آپ خود ہی نماز پڑھیں یا امام صاحب کے ساتھ پھریں۔ مگر شریعَت سے استہزاء نہ کریں۔ آپ کو خود تو نماز میں حضور قلب حاصل نہیں دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں۔ اگر تمہیں حضوری ہوتی تو دوسرے پر نظر ہی نہ جاتی۔ ( محفل اولیاء صفحہ نمبر۵۵۹)