حضرتِ سیِّدَتُنا ام شریک اَسَدِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا ام شریک اَسَدِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ پسندیدہ احوال اور قابلِ تعظیم وبلند رُتبہ علامات کی مالکہ تھیں۔
سیِّدَتُنا اُم شریک رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی ثابت قدمی:
(1530)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضرتِ امِ شریک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَامکہ میں تھیں۔ ان کے دل میں اسلام کی عظمت پیدا ہوگئی اور اسلام لے آئیں۔ ان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنی عامر بن لُوَی سے ہے اور ابوعسکر دوسی کے نکاح میں تھیں۔ قبولِ اسلام کے بعد خفیہ طور پر قریش کی عورتوں سے ملتیں اور انہیں اسلام کی دعوت دے کر قبولِ اسلام کی ترغیب دلاتیں حتی کہ اہلِ مکہ پر ظاہر ہوگیا کہ یہ ایمان لاچکی ہیں۔ چنانچہ، اہلِ مکہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پکڑ کر کہا: ’’اگر ہمیں تمہارے قبیلہ کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سخت سزا دیتے لیکن اب ہم تمہیں مسلمانوں کی طرف لوٹا کر ہی دم لیں گے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا خود بیان کرتی ہیں کہ اہلِ مکہ نے مجھے بغیر کجاوے کے اونٹ پر سوار کیا کہ میرے نیچے کوئی کپڑا اور زین وغیرہ بھی نہ تھی۔ تین دن تک مجھے اسی حالت میں چھوڑے رکھا نہ کچھ کھلاتے نہ پلاتے۔ مجھ پر تین دن ایسے گزرے کہ میں نے زمین پر چلنے والی کسی چیز کی آواز نہ سنی۔ اہلِ مکہ جب بھی کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو مجھے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیتے اور خود سائے میں جاکر بیٹھ جاتے اور مجھے کھانے پینے کو بھی کچھ نہ دیتے۔ میں اسی حالت میں رہتی حتی کہ وہ وہاں سے کوچ کرجاتے۔ اسی دوران انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور مجھے باندھ کر دھوپ میں ڈال کر خود سائے میں چلے گئے۔ اچانک میں نے اپنے سینہ پر کسی چیز کی ٹھنڈک محسوس کی، دیکھا تو وہ پانی کا ایک ڈول تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی پیا پھر اسے ہٹا لیا گیا اور وہ بلند ہوگیا، کچھ دیر بعد ڈول پھر آیا میں نے اس میں سے پیا اسے پھر اٹھا لیا گیا پھر اسی طرح آیا میں نے اس میں سے تھوڑا سا پانی پیا اسے پھر اٹھا لیا گیا، کئی بار ایسا ہوا، پھر وہ ڈول میرے حوالے کر دیا گیا، میں نے سیر ہو کر پیا اور بقیہ پانی اپنے جسم اور کپڑوں پر انڈیل لیا۔ جب وہ لوگ بیدار ہوئے اور مجھ پرپانی کا اثر محسوس کیا اور مجھے اچھی حالت میں دیکھا تو کہا: ’’کیا تم نے کھل کر ہمارے مشکیزوں سے پانی پیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں! بخدا! میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میرے