Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
110 - 603
کے لعل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے کھانا پیش کیا تو آپ نے مجھے بھی کھانے کے لئے کہا۔ میں نے عرض کی: ’’میں روزے سے ہوں۔‘‘ (۱)   تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جب روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے تو کھانے والوں کے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔‘‘  (۲)
حضرتِ سیِّدَتُنا حَوْلَاء بنت تُوَیْت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدَتُنا حولاء بنت تویت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیہ ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطیع وفرمانبردار، ہجرت کرنے والی، تہجد گزارا ور ثابت قدم رہنے والی خاتون تھیں۔
طاقت بھرعمل کرو!
(29-1528)…حضرتِ سیِّدُنا عُرْوَہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا حولاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس سے گزریں اس وقت سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ان کے پاس موجود تھے۔ ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ’’یہ حضرتِ حولاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں۔ لوگ ان کے بارے میں خیال کرتے ہیںکہ یہ رات کو سوتی نہیں ہیں۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ رات کو نہیں سوتی؟ (پھرفرمایا:) اتنا ہی عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ (اجر عطا فرمانے سے) نہیں اُکتاتا بلکہ تم اُکتا جاتے ہو۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح، جلد3، صفحہ201 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے کھانا کھایا انہوں نے نہ کھایا اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ روزہ دار مہمان کی تواضع خاطر کھانے سے کرسکتاہے۔ ہاں رمضان میں روزہ توڑوں اور روزہ چوروں کو نہ کھانا کھلائے نہ ان کے لیے پکائے کہ یہ گناہ پر مدد ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے  وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۪ (پ۶، المائدۃ:۲،ترجمۂ کنزالایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مددنہ دو۔) دوسرے یہ کہ اگر مہمان کی ناراضی کا اندیشہ نہ ہو تو میزبان نفلی روزہ نہ توڑے اور مہمان سے عذر کر دے۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث اُم عمارۃ، الحدیث:۲۷۱۲۹، ج۱۰، ص۳۰۰۔
3…صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضیلۃ العمل…الخ، الحدیث:۷۸۵، ص۳۹۵۔