ساتھ یہ یہ معاملہ پیش آیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’اگر تم سچی ہو توپھر تمہارا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔‘‘ جب انہوں نے اپنے مشکیزوں کو دیکھا تو انہیں ایسے ہی پایا جیسے انہوں نے چھوڑے تھے۔ اس وقت وہ (مجھ پر) ڈھائے ہوئے ظلم پر افسوس کا اظہار کرنے لگے۔ پھر میں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر خود کو بغیر مہر کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پیش کیا تو آپ نے قبول فرما لیا اور میرے پاس آنے لگے۔ (۱)
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَ ہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا کی طرف پیدل ہجرت کی۔ آپ روزہ دار، عبادت گزار اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے رونے اور آہیں بھرنے والی خاتون تھیں۔ نیز انہیںغیبی طور پر پانی سے سیراب کیا گیا جو ان کے لئے شافی وکافی ثابت ہوا۔
سخت گرمی میں بھی پیاس نہ لگتی:
(1531)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن قاسم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے سخت گرمی میں بحالت ِ روزہ بغیر کسی زادِراہ کے بارگاہِ رسالت میں حاضری کے لئے پیدل مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی جانب ہجرت کی۔ مقامِ روحاء میں یا اس کے قریب انہیں اس قدر سخت پیاس محسوس ہوئی قریب تھا کہ پیاس کی شدت کے سبب وصال فرما جاتیں۔ فرماتی ہیں: ’’جب سورج غروب ہوگیا تو اچانک میں نے اپنے سر کے اوپر کسی ہلکی سی چیز کی سر سراہٹ محسوس کی دیکھا تو سفید رسی سے بندھا ہوا پانی کا ایک ڈول آسمان سے لٹک رہاتھا۔ جب قریب ہوا اور میرے لئے اسے پکڑنا ممکن ہوگیا تو میں نے اسے پکڑ کر سیر ہو کر پیا۔ اس واقعہ کے بعد میں سخت گرمی کے دن دھوپ میں پھرتی تھی تاکہ مجھے پیاس لگے لیکن پھر بھی پیاس نہ لگتی تھی۔‘‘ (۲)
شفا بخش بول:
(1532)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک رات حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ، الرقم:۱۲۱۰۳، امّ شریک، ج۸، ص۴۱۷۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۴۱۵۶، امّ ایمن، ج۸، ص۱۷۹، بتغیر۔