آکے تم با ادب ،دیکھ لو فضلِ رب مَدنی مُنّے ملیں ، قافِلے میں چلو
کھوٹی قسمت کھری، گود ہو گی ہری پوری ہوں حسرتیں ، قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
منہ مانگی مُراد نہ ملنا بھی اِنعام!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے کس طرح مَن کی مُرادیں برآتیں ، اُمّیدوں کی سوکھی کھیتیاں ہری ہو جاتیں اوردلوں کی پَژ مُردہ کلیاں کِھل اٹھتی ہیں ! مگر یہ ذِہن میں رہے کہ ہر ایک کی دلی مُراد پوری ہی ہو یہ ضَروری نہیں ،بارہا ایسا ہوتا ہے کہ بندہ جو طلب کرتا ہے وہ اُس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا اِس لئے اُس کا سُوال پورا نہیں کیا جاتا،ایسی صورت میں اُس کی منہ مانگی مُراد نہ ملنا یقینا اُس کیلئے اِنعام ہے ۔ مَثَلاًیِہی کہ وہ اولادِ نَرینہ مانگتا ہے مگر اُس کو مَدَنی مُنّیوں سے نوازا جاتا ہے اور یِہی اُس کے حق میں بہتر بھی ہوتا ہے، کیوں کہ مثال کے طور پر اگربیٹا پیدا ہوتا تو نابینا یا ہاتھ پاؤں سے معذور یا سدا بیمار رہنے والا ہوتا،یا تندرست ہوتا بھی تو بڑا ہو کر ہیروئنچی ، چور ، ڈاکو یا ماں باپ پر ظلم کرنے والا ہوتا۔ پارہ 2 سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ کی آیت نمبر 216 میں ربُّ العِباد عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے:
وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْؕترجَمۂ کنزالایمان:اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بُری ہو۔