Brailvi Books

یومِ تعطیل اعتکاف
11 - 42
 لئے   ۹ ھ کو لوگ سَنَةُ الْوُفُود (یعنی نمائندوں کا سال)  کہنے لگے ۔ 
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یہ سلسلہ یہیں تک مَحْدُود نہ رہا بلکہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد بھی جاری رہا اور بِالْخُصُوص اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خِلَافَت  میں مُـخْتَلِف مُمَالک کے شہروں اور بستیوں میں رہنے والوں تک علم دین کو عام کرنے میں اِنْقِلابی اقدامات کئے ، مَثَلًا 
٭ شہر بَہ شہر قَرْیَہ بَہ قَرْیَہ مُـخْتَلِف مُعَلِّمِین کو نہ صِرف بھیجا، بلکہ ان کی تنخواہیں بھی مُقَرَّر کیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ حُکْم بھی جاری کیا کہ ہر شخص کو قرآنِ پاک سیکھنے میں اس کی کوشش کے اِعْتِبَار سے عطیات دیئے جائیں۔ 
٭ اِس سلسلے میں فَقَط وہاں کے گورنروں یا قاضیوں پر اِکْتِفَا نہ کیا بلکہ مدینہ مُنَوَّرہ میں مقیم مُـخْتَلِف عُلَما و مفتیانِ کرام کو اس کام کی تکمیل کے لئے بھیجا۔ 
٭ فتح ہونے والے ہر علاقے میں جامِع مَسَاجِد کا خصوصی اِہتِمام فرمایا۔ ٭ جو مالِ غنیمت تقسیم کے بعد بچ جاتا اسے قرآنِ کریم کی تعلیم حاصِل کرنے والوں پر خَرْچ کرنے کا حُکْم دیا۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! 	صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -    سیرت مصطفیٰ، ص ۵۰۶
2 -    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۰
3 -    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۳
4 -    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۴