Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
8 - 54
کرکے) اُلٹے ہاتھ سے ناک صاف کرلیجئے اور چھوٹی اُنگلی ناک کے سُوراخوں  میں  ڈالئے ۔ تین بار سارا چِہرہ اِس طرح دھوئیے کہ جہاں  سے عادَتاًسر کے بال اُگنا شروع ہوتے ہیں  وہاں  سے لیکرٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہر جگہ پانی بہ جائے ۔ اگر داڑھی ہے اور اِحرام باندھے ہوئے نہیں  ہیں  تو( نل بند کرنے کے بعد) اِسطرح خِلال کیجئے کہ اُنگلیوں  کو گلے کی طرف سے داخِل کر کے سامنے کی طرف نکالئے ۔ پھر پہلے سیدھا ہاتھ اُنگلیوں  کے سرے سے دھونا شروع کر کے کہنیوں  سمیت تین بار دھوئیے ۔اِسی طرح پھر اُلٹا ہاتھ دھولیجئے۔ دونوں  ہاتھ آدھے بازو تک دھونا مستحب ہے ۔اکثر لوگ چُلّو میں  پانی لیکر پہنچے سے تین بار چھوڑ دیتے ہیں  کہ کہنی تک بہتا چلا جاتا ہے اس طرح کرنے سے کہنی اور کلائی کی کروٹوں  پر پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہے لہٰذا بیان کردہ طریقے پر ہاتھ دھوئیے۔ اب چُلّو بھر کر کہنی تک پانی بہانے کی حاجت نہیں  بلکہ    ( بِغیر اجازتِ صحیحہ ایسا کرنا) یہ پانی کا اِسرا ف ہے ۔اب(نل بند کرکے) سر کا مسح اِس طرح کیجئے کہ دونوں  اَنگوٹھوں  اور کلمے کی اُنگلیوں  کو چھوڑ کر دونوں  ہاتھ کی تین تین اُنگلیوں  کے سِرے ایک دوسرے سے مِلا لیجئے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر کھینچتے ہوئے گُدّی تک اِس طرح لے جائیے کہ ہتھیلیاں  سَر سے جُدا ر ہیں  ، پھر گدّی سے ہتھیلیاں  کھینچتے ہوئے پیشانی تک لے آئیے،۱؎  کلمے کی اُنگلیاں  اور اَنگوٹھے اِس دَوران سَر پر باِلکل مَس نہیں 


مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
    ۱ ؎  ؎ سرپر مسح کا ایک طریقہ یہ بھی تحریر ہے اِس میں با لخصوص اسلامی بہنوں کیلئے زیادہ آسانی ہے چُنانچِہ لکھا ہے:مسحِ سرمیں ادائے سنَّت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصّے پر رکھے اور ہتھیلیاں سر کی  کروٹوں پر اور ہاتھ جما کر گُدّی تک کھینچتا لے جائے۔            (فتاویٰ رضویہ مخرجہ ج۴ص۶۲۱)