Brailvi Books

وُضو کا طریقہ (حنفی)
10 - 54
 ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ مُخَرَّجہ جلد 4صَفْحَہ 575تا576پر فرماتے ہیں  :بَقِیَّۂ وضو(یعنی وضو کے بچے ہوئے پانی) کے لیے شرعاً عَظَمت و احترام ہے اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ثابِت کہ حُضُور نے وُضو فرما کر بقیہ آب(یعنی بچے ہوئے پانی) کو کھڑے ہو کر نوش فرمایا اور ایک حدیث میں  روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستَّر مَرَض سے شفا ہے۔تو وہ ان اُمُور میں  آبِ زمزم سے مُشابَہَت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں  ۔’’ تنویر‘‘ کے آدابِ وضو میں  ہے: ’’وضو کے بعد وُضو کا پَسمَاندہ (یعنی بچا ہوا پانی) قبلہ رُخ کھڑے ہو کرپئے۔‘‘علّامہ عبد الغنی نابُلُسی رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہفرماتے ہیں  : میں  نے تجرِبہ کیا ہے کہ جب میں  بیمار ہوتا ہوں  تو وُضو کے بَقِیَّہ(بَ ۔قِیْ۔یَہ) پانی سے شِفا حاصِل ہو جاتی ہے۔ نبیِّ صادِق صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس صحیح طبِّ نبوی میں  پائے جانیوالے ارشادِ گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں  نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جنّت کے آٹھوں  دروازے کُھل جاتے ہیں  
	حدیثِ پاک میں  ہے: جس نے اچّھی طرح وُضو کیا اور پھر آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی اورکَلِمۂ شہادت پڑھا اُس کے لئے جنّت کے آٹھوں  درواز ے کھول دیئے جاتے ہیں  جس سے چاہے اندر داخِل ہو۔    (سُنَنِ دارمی ج ۱ ص ۱۹۶حدیث ۷۱۶)
نظر کبھی کمزور نہ ہو
	 جو وُضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر سُورۂ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ پڑھ لیا کرے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُس کی نظر کبھی کمزور نہ ہوگی۔               (مَسائلُ القُراٰن ص۲۹۱)