Brailvi Books

تذکرۂ جانشینِ امیرِاہلِ سُنّت ( قسط اوّل)
30 - 30
امیرِ اہلِ سنّت  کی دعا کی برکت سے وہ مسئلہ بھی حل ہوگیا ۔  اب ہم لوگ بہت سکون میں ہیں ۔  اللہ پاک جانشینِ امیرِ اہلِ سنّت اور دعوتِ اسلامی  کو سلامت رکھے ۔ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرامینِ محدثِ اعظم پاکستان
٭حدیثِ پاک کی ۳۸۰ کتب ہیں آج کل ساری کتب ِاحادیث ملتی بھی نہیں ہیں لہذا  جب کبھی تم سے کوئی کسی حدیث کے بارے میں سوال کرے تو یہ مت کہو کہ یہ حدیث کسی کتاب میں نہیں بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث میرے علم میں نہیں ہے ، یا میں نے نہیں پڑھی  ۔ ( تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ /  ۳۲۳ بتغیر) ٭قرآن وحدیث اور کتب دینی کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہاں پڑی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہاں رکھی ہیں  ۔ ( تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ / ۴۳۸) ٭بیان ٹھوس کریں ، جو مسئلہ بیان کریں اس کا ثبوت تحقیقاً یا الزاماً آپ کے پاس ہو ، آپ ہوں اور کتابوں کا مطالعہ ۔ ٭جس قدر علم میں توجہ کریں گے اتنا ہی ترقی و عروج حاصل کریں گے  ۔ ٭آپ دین کے مبلغ اور ترجمان ہیں آپ کا کردار بے داغ ہوناچاہیے ٭علم اور علما کے وقار کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھیں کوئی ایسا کام نہ کریں کہ علما کا وقار مجروح ہو ۔ ٭علمِ دین کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ ہرگز نہ بنائیں اگر بنایاتو نقصان اٹھائیں گے ۔ ٭علمائے کرام ہمیشہ لباس اُجلا اور عمدہ  واعلیٰ پہنیں نیز اس کی شرعی حیثیت کا خیال بھی ضروری ہے  ۔ ٭عمدہ جوتا استعمال کریں تاکہ دنیاداروں کی نگاہ عالم کے جوتوں پر رہے ۔ ٭نمازیوں سے اخلاق سے پیش آئیں ۔ جو سنی دھوکے میں ہیں اِن کی اصلاح جاری رکھیں ۔ ٭دین کی خدمت ، دین کے لئے کریں لالچ نہ کریں  ۔ اگر ایک جگہ سے خدمت کم ہوگی تو دوسری جگہ سے کسر پوری ہوجائے گی ۔ ( تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ /  ۴۳۸) ٭ایک مرتبہ ایک صاحب سے فرمایا : میں اپنوں سے الجھ کر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا اتنا وقت میں  تبلیغ دین اور بد مذہبوں کی تردید میں صرف کروں گا  ۔ ( تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۲ /  ۴۳۸ تا ۴۳۹ملتقطاً)