مان کر اُسی کی بندگی اور شَہَنْشَاہِ مدینہ ، سلطانِ باقرینہ، سُرورِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعَطَّر پسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اُس کا بھیجا ہوا سچّا اور آخِری رسول ماننا، نیز اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مَحَبَّت و عظمت کی مُکمَّل پاسداری کرنا، ضَروریاتِ دین میں سے کسی کا بھی انکار نہ کرنا، نیز اللہ و رسول و صَحابۂ کِرام عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہم وغیرہُم کی تَوہین و تَنقِیص سے مکمّل دُور اور گستاخوں سے دُور و نُفُور رہنا، وغیرہ وغیرہ ۔
مدینہ ۴: اسلام میں عُلَماءِ حق کی بہت زیادہ اَہَمِّیَّت ہے اور وہ عِلمِ دین کے باعِث عوام سے افضل ہوتے ہیں، غیرِ عالِم کے مقابلے میں عالِم کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے، چنانچہ حضرتِ محمد بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سےمَروی ہے، '' عالِم کی دو رکعت غیرِ عالم کی ستَّر رَکْعَت سے افضل ہے۔''