شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:''طلبہ ملک وملت کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں مستقبل میں قوم کی باگ ڈور یہی سنبھالتے ہیں ،اگر ان کی شریعت وسنّت کے مطابق تربیت کردی جائے توسارا معاشرہ خوفِ خدا وعشقِ مصطَفےٰ کا گہوارہ بن جائے۔'' تعلیمی اداروں مثلاََدینی مدارس، اسکولز، کالجزاور یونیورسٹیز کے اساتذہ وطلبہ کو میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی سُنّتوں سے رُوشناس کروانے کے ليے بھی مدنی کام ہورہا ہے۔بے شمار طلبہ سُنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں نیز مدنی قافِلوں کے مسافربھی بنتے رہتے ہیں ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مُتعدِّد دنیوی علوم کے دلدادہ بے عمل طَلَبہ،نَمازی اور سُنّتوں کے عادی ہوگئے۔چُھٹّیو ں میں دینی تربیت کے لیے'' فیضانِ قرآن و حدیث کورس'' کی بھی ترکیب کی جاتی ہے ۔