فرماتا ہے۔( مسند الفردوس، باب الالف، ۱/۲۴۶، الحدیث: ۹۵۳)
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں اپنا شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا: اور ہماری آیتوں میں جھگڑنے والے جان جائیں ۔} یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کو سمندر میں غرق کردے اور قرآنِ پاک کو جھٹلانے والے جان جائیں کہ ان کیلئے اللہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں ۔( جلالین، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۴۰۴، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۵، ۴/۹۸، ملتقطاً)
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: تمہیں جو کچھ ملا ہے وہ جیتی دنیا میں برتنے کا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو(اے لوگو!)تمہیں جو کچھ دیا گیاہے وہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ ایمان والوں اور اپنے رب پر بھروسہ کرنے والوں کیلئے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے۔
{فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ: تو تمہیں جو کچھ دیا گیاہے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کردیا ، اس پر عرب کے لوگوں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو ملامت کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہیں جو کچھ دُنْیَوی مال و اَسباب دیا گیاہے وہ آخرت کا زادِ راہ نہیں بلکہ صرف چند روز کی دُنْیَوی زندگی کا سازو سامان ہے اور یہ ہمیشہ باقی نہیں رہے گا، جبکہ جو اجرو ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ایمان والوں اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرنے والوں کیلئے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے۔ (مدارک، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۱۰۹۰، جلالین، الشوری، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۴۰۴، ملتقطاً)