حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’بے شک میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ا ن کے ایمان کی بھلائی مالداری میں ہے ،اگر میں انہیں فقیر کر دوں تو اس کی وجہ سے ان کا ایمان خراب ہو جائے گا۔بے شک میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کی بھلائی فقیری میں ہے،اگر میں انہیں مالدار بنا دوں تو اس کی وجہ سے ان کا ایمان خراب ہو جائے گا۔بے شک میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کی بھلائی صحت مند رہنے میں ہے ،اگر میں انہیں بیمار کر دوں تو اس بنا پر ان کا ایمان خراب ہو جائے گا۔بے شک میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ ان کی ایمان کی بھلائی بیمار رہنے میں ہے،اگر میں انہیں صحت عطا کر دوں تو اس کی وجہ سے ان کا ایمان خراب ہو جائے گا۔ میں اپنے علم سے اپنے بندوں کے معاملات کا انتظام فرماتا ہوں ،بے شک میں علیم و خبیر ہوں ۔( حلیۃ الاولیاء، الحسین بن یحی الحسینی، ۸/۳۵۵، الحدیث: ۱۲۴۸۵)
اسی طرح کی ایک حدیث پاک آیت نمبر17کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے ،ان اَحادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کی امیری،غریبی،بیماری اور تندرستی حکمت کے عین مطابق ہے اور اُخروی اعتبار سے بہت بڑے فائدے کی حامل ہے لہٰذا جسے اللہ تعالیٰ نے دولت عطا کی اسے چاہئے کہ وہ ا س دولت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں خرچ کرے ۔جسے اللہ تعالیٰ نے غریب رکھااسے چاہئے کہ وہ اپنی غربت اور تنگدستی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اسی کی بارگاہ سے صبر کرنے کی توفیق مانگے اور آسانی طلب کرتا رہے ۔جو تندرست ہے وہ اس نعمت کو غنیمت جانے اور اپنی جسمانی صحت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت زیادہ کرنے کا فائدہ اٹھائے، اور جوبیمار ہے وہ بیماری کو اپنے حق میں مصیبت نہ سمجھے بلکہ یہ ذہن بنائے کہ اس بیماری کے ذریعے میری خطائیں معاف ہو رہی ہیں اور میرے ایمان کو تباہی سے بچایا جا رہا ہے اور یہ دونوں چیزیں آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں بہت کام آنے و الی ہیں ۔ اس سے اِنْ شَآئَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دل اور دماغ کو راحت نصیب ہو گی۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗؕ-وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ(۲۸)