اندازہ سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے ، بیشک وہ اپنے بندوں سے خبردار (ہے، انہیں ) دیکھ رہاہے۔
{وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ: اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کیلئے رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو غریب اور بعض کو مالدار بنانے کی حکمت بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کیلئے رزق وسیع کردیتا تو وہ ضرور زمین میں فساد پھیلاتے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کا رزق ایک جیساکر دے تو یہ بھی ہوسکتا تھا کہ لو گ مال کے نشے میں ڈوب کر سرکشی کے کام کرتے اور یہ بھی صورت ہوسکتی تھی کہ جب کوئی کسی کا محتاج نہ ہو گا تو ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنا ناممکن ہو جائے گا جیسے کوئی گندگی صاف کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا،کوئی سامان اٹھانے پر راضی نہ ہو گا،کوئی تعمیراتی کاموں میں محنت مزدوری نہیں کرے گا، یوں نظامِ عالَم میں جو بگاڑ پیدا ہو گااسے ہر عقلمند با آسانی سمجھ سکتاہے۔
اللہ تعالیٰ کے اَفعال حکمتوں اور مَصلحتوں سے خالی نہیں :
ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اگرچہ بندوں کی بہتری اور فائدے کے لئے اَفعال کرنا اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ، ا س کے باوجود اللہ تعالیٰ کے اَفعال حکمتوں اور مَصلحتوں سے خالی نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حال کو جانتا ہے کہ اگر ا س پر دنیا کا رزق وسیع کر دیا تو یہ وسعت بندے کے اعمال کو فاسد کر دے گی،اس لئے ا س پر رزق تنگ کر دینے میں ہی اسی کی مَصلحت اور بہتری ہے، لہٰذا کسی پر رزق تنگ کر دینے میں اس کی توہین نہیں اور نہ ہی کسی پر رزق کشادہ کر دینا اس کی فضیلت ہے۔مزید فرماتے ہیں ’’تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر مَوقوف ہیں ،وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ اپنے کسی فعل پر جواب دِہ نہیں کیونکہ وہ علی الاطلاق مالک ہے۔( قرطبی، الشوری، تحت الآیۃ: ۲۷، ۸/۲۱، الجزء السادس عشر، ملخصاً)
امیری ،غریبی،بیماری اور تندرستی کی بہت بڑی حکمت:
ہم معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ امیر،کچھ لوگ غریب،کچھ بیمار اور کچھ تندرست ہیں ،اس میں یقینا اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں ، یہاں لوگوں کے احوال میں اس فرق کی ایک بہت بڑی حکمت ملاحظہ ہو، چنانچہ