سورۂ قٓ
سورۂ قٓ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قٓ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ ق، ۴/۱۷۴)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع، 45آیتیں ،357کلمے1494 حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ ق، ۴/۱۷۴)
’’ قٓ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
قٓحروفِ مُقَطَّعات میں سے ایک حرف ہے اور اس سورت کی پہلی آیت میں یہ حرف موجود ہے ،اس مناسبت سے اسے سورۂ قٓ کہتے ہیں ۔
سورۂ قٓ سے متعلق اَحادیث:
(1)…حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ابو واقد لیثی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا: نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عِیْدَیْن کی نماز میں کیا پڑھا کرتے تھے ؟آپ نے عرض کی : حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عید کی نماز میں ’’قٓ ۫ۚ-وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ‘‘ اور ’’ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔( مسلم، کتاب صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ فی صلاۃ العیدین، ص۴۴۱، الحدیث: ۱۴(۸۹۱))
(2)…حضرت اُمِّ ہشام بنت ِحارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :میں نے ’’قٓ ۫ۚ-وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ‘‘ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اَقدس سے سن کر ہی یاد کیا ہے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ سورت پڑھا کرتے تھے۔( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ص۴۳۲، الحدیث: ۵۲(۸۷۳))