دورکردیں اورانہیں بتادیں کہ تم نے اسلام لاکرمجھ پرکوئی احسان نہیں کیابلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پراحسان کیاکہ تم کو ایمان کی دولت دیدی ورنہ کافرمرتے توجہنم میں جاتے اورہمیشہ کے لیے عذاب کے حقدارٹھہرتے ۔
مخلوق میں سے کسی کا حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر احسان نہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ کسی مخلوق کا حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر احسان نہیں بلکہ سب پر حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا احسان ہے کہ ہمیں جو نعمتیں ملیں وہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طفیل ہی ملیں ،اگر تمام جہان کافر ہو جائے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کچھ نہیں بگڑتا اور اگر تمام دنیا مومن و مُتَّقی ہو جائے تو حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کچھ احسان نہیں ،اگر ہم سورج سے نورلے لیں توہمارااحسان سورج پر نہیں بلکہ اس کا ہم پر احسان ہے ۔
اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
{اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے۔} یعنی جو علیم و خبیر تمام آسمانو ں کے غُیوب جانتا ہے اس پر تمہارے دل کے حالات کیسے چھپ سکتے ہیں اس کی بارگاہ میں اپنا ایمان ظاہر کر نا عَبَث ہے۔یاد رہے کہ ہم گنہگار وں کا یہ عرض کرنا کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہم گنہگار ہیں یا اے مولیٰ !ہم تیرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ،یہ اللہ تعالیٰ پر ظاہر کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس سے بھیک مانگنے کے لئے ہے لہٰذا یہ آیت ان آیتوں کے خلاف نہیں جن میں اس کے اظہار کا ذکرہے ۔