والا اور ان پر انعام فرمانے میں حکمت والا ہے۔( مدارک، الحجرات ، تحت الآیۃ : ۷-۸ ، ص۱۱۵۲- ۱۱۵۳، خازن، الحجرات، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۴/۱۶۷، جلالین مع صاوی، الحجرات، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۵/۱۹۹۱-۱۹۹۲، ملتقطاً)
آیت ’’وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے 6باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے۔
(2)… نعت لکھنے پڑھنے والوں اور عرض و معروض کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنا سچا دکھ درد عرض کریں وہاں مبالغہ نہ کریں۔
(3)…ایمان پیارا معلوم ہونااللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔
(4)…ایمان کا کمال اپنی کوشش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نصیب ہوتا ہے۔
(5)… گناہ نہ کرنابھی کمال ہے لیکن گناہ سے دل میں نفرت پیدا ہو جانا بڑ اکمال ہے کیونکہ یہ نفرت گناہوں سے مستقل طور پر بچالیتی ہے۔
(6)… تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کفروفسق اورگناہ سے دلی بیزارہیں ،ان کے دلوں میں ایمان ،تقویٰ اور رُشد و ہدایت ایسی رَچ گئی ہے جیسے گلاب کے پھول میں رنگ وبُو۔
وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو اُن میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے