Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
378 - 764
لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَـطَــٴُـوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍۚ-لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُۚ-لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: وہ وہ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  مسجد ِحرام سے روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں  جن کی تمہیں  خبر نہیں  کہیں  تم اُنہیں  روند ڈالو تو تمہیں  اُن کی طرف سے انجانی میں  کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں  ان کے قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ  اپنی رحمت میں  داخل کرے جسے چاہے اگر وہ جدا ہوجاتے تو ہم ضرور ان میں  کے کافروں  کو دردناک عذاب دیتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  مسجدحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں  کو (روکا) اس حال میں  کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچنے سے رُکے ہوئے تھے اور اگر (مکہ میں ) کچھ مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں  نہ ہوتے جن کی تمہیں  خبر نہیں (اور یہ بات نہ ہوتی) کہ تم انہیں  روند ڈالو گے پھر تمہیں  ان کی طرف سے لاعلمی میں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی(تو ہم تمہیں  کفارِ مکہ سے جہاد کی اجازت دیدیتے۔ ان کا یہ بچاؤ) اس لیے ہے کہ اللہ  اپنی رحمت میں  داخل کرتاہے جسے چاہتا ہے۔ اگر مسلمان (وہاں  سے)ہٹ جاتے تو ہم ضرور ان میں  سے کافروں  کو دردناک عذاب دیتے۔
{هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: وہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا۔} یعنی کفار ِمکہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  حدیبیہ کے مقام پر مسجدِحرام تک پہنچنے اور کعبہ مُعَظَّمہ کا طواف کرنے سے روکا اور قربانی کے جانوروں  کو حرم میں  موجود اس مقام پر پہنچنے سے روکا جہاں  انہیں  ذبح کیا جانا تھااور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں  مکہ مکرمہ میں  موجود ہیں  جنہیں  تم پہچانتے نہیں  اور کہیں  ایسا نہ ہو کہ اپنے حملے میں تم انہیں  بھی روند ڈالو،پھر تمہیں  اس پر افسوس ہو کہ تم نے اپنے ہاتھوں  اپنے مسلمان بھائیوں  کو شہید کردیا، اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم تمہیں  اہلِ مکہ سے جہاد کی