اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ہم اس آیت کوپہلے پڑھتے تھے اورہمیں معلوم نہیں تھاکہ اس جنگجوقوم سے کون سی قوم مراد ہے، حتّٰی کہ حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ہمیں بنوحنیفہ کے خلاف جنگ کی دعوت دی، تب ہمیں پتہ چلاکہ اس جنگجوقوم سے مرادبنوحنیفہ ہیں ۔
(2)… ان سے مراد فارس اور رُوم کے لوگ ہیں جن سے جنگ کرنے کیلئے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دعوت دی۔( خازن ، الفتح ، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴/۱۴۹-۱۵۰، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۱۴۳-۱۱۴۴، قرطبی، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۶، ۸/۱۹۵-۱۹۶، الجزء السادس عشر، روح البیان، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۶، ۹/۳۰-۳۲، ملتقطاً)
حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خلافت صحیح ہونے کی دلیل:
یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خلافت صحیح ہونے کی دلیل ہے ،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ (اس آیت کے نزول کے بعدتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں کسی جہاد کے لئے ان دیہاتیوں کو دعوت نہیں دی گئی ،آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد) حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے زمانہ میں مُرتدوں اور کافروں کے خلاف جہاد ہوئے اور ان جہادوں میں شرکت کی دعوت دی گئی (اس سے معلوم ہوا کہ جنگجو قوم کے خلاف لڑائی کی دعوت دینے والا برحق امام ہے)۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کی اطاعت پر جنت کا اور ان کی مخالفت پر جہنم کا وعدہ دیا گیا (جس سے معلوم ہوا کہ ان کی اطاعت کرنا اور مخالفت نہ کرنا لازم تھا اور یہ حکم بھی برحق امام کیلئے ہے)۔(خازن، الفتح، تحت الآیۃ:۱۶، ۴/۱۴۹، مدارک، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۱۴۳، قرطبی، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۶، ۸/۱۹۵-۱۹۶، الجزء السادس عشر، ملتقطاً)
لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠(۱۷)