Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
367 - 764
ترجمۂکنزالایمان:  اُن پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں  سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ اُن سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں  پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ  تمہیں  اچھا ثواب دے گاا ور اگر پھرجاؤ گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمہیں  درد ناک عذاب دے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں  سے فرماؤ: عنقریب تمہیں  ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلایا جائے گا تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں  گے پھر اگر تم فرمانبرداری کروگے تو اللہ تمہیں  اچھا ثواب دے گاا ور اگر پھر وگے جیسے تم اس سے پہلے پھر گئے تھے تو وہ تمہیں  درد ناک عذاب دے گا۔
{قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ: پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں  سے فرماؤ۔} اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ حکم دیا کہ وہ حدیبیہ میں  شریک نہ ہونے والے دیہاتیوں  کو جنگِ خیبر میں  اپنے ساتھ آنے سے منع کر دیں  اور ان دیہاتیوں  کا حال یہ تھا کہ ان کا تعلق مختلف قبائل سے تھا اور ان میں  بعض ایسے بھی تھے جن کے تائب ہونے کی امید تھی اور بعض ایسے بھی تھے جو نفاق میں  بہت پختہ اور سخت تھے، اللہ تعالیٰ کو انہیں  آزمائش میں  ڈالنا منظور ہوا تاکہ توبہ کرنے والے اور نہ کرنے والے میں  فرق ہوجائے، اس لئے حکم ہوا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان دیہاتیوں  سے فرمادیجئے :عنقریب تمہیں  ایک سخت لڑائی کرنے والی قوم کی طرف بلایا جائے گا تاکہ تم ان سے جنگ کرو یا وہ لوگ مسلمان ہوجائیں  ، پھر اگر تم بلانے والے کی فرمانبرداری کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں  دنیا میں  غنیمت اور آخرت میں  جنت کی صورت میں اچھا اجر دے گاا ور اگر فرمانبرداری کرنے سے پھر وگے جیسے تم اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر پھر گئے تھے تو وہ تمہیں  آخرت میں  درد ناک عذاب دے گا۔
	سخت لڑائی والی قوم سے کون لوگ مراد ہیں  ،ان کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،ان میں  سے دو قول درج ذیل ہیں :
 (1)… ان سے یمامہ کے رہائشی بنو حنیفہ مراد ہیں  جو کہ مُسیلمہ کذّاب کی قوم کے لوگ ہیں  اور ان سے جنگ کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے دعوت دی۔حضرت رافع بن خدیج رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :