Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
363 - 764
عذر پیش کرنے اور مغفرت طلب کرنے میں  جھوٹے ہیں  کیونکہ وہ اپنی زبانوں  سے ایسی بات کہتے ہیں  جو ان کے دلوں  میں  نہیں  ہے اور انہیں  اس بات کی کوئی پرواہ نہیں  کہ آپ ان کے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں  یا نہیں  (اور جب یہ لوگ آپ کے سامنے عذر پیش کریں  تو) ان سے فرما دیں :اگر اللہ تعالیٰ تمہیں  نقصان پہنچاناچاہے یا وہ تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  کون تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تمہارے مال و اولاد پر آفت آنے والی ہوتی تو تم یہاں  رہ کر وہ آفت دور نہ کردیتے اور اگر نہ آنے والی ہوتی تو تمہارے جانے سے وہ ہلاک نہ ہوجاتے، پھر تم کیوں  ایسی نعمت ِعُظْمیٰ یعنی بیعت ِرضوان سے محروم رہے (اور تم یہ نہ سمجھنا کہ مجھے تمہارے ا س جھوٹ کی خبر نہیں ) بلکہ یاد رکھو: اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے ( اور ا س نے وحی کے ذریعے مجھے یہ بتا دیا ہے کہ تمہاری غیر حاضری کی وجہ وہ نہیں  جو تم بیان کر رہے ہو) بلکہ اے منافقو! اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمان ہرگز کبھی اپنے گھر والوں  کی طرف واپس نہ آئیں  گے اوردشمن ان سب کا وہیں  خاتمہ کردیں  گے اور شیطان کی طرف سے یہ بات تمہارے دلوں  میں  بڑی خوبصورت بنادی گئی تھی یہاں  تک کہ تم نے اس پر یقین کر لیا اور یہ گمان کر لیا کہ کفر غالب آئے گا،اسلام مغلوب ہو جائے گا او راللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا نہ ہوگا اور اس گمان کی وجہ سے تم ہلاک ہونے والے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق لوگ تھے۔( مدارک،الفتح،تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ص۱۱۴۲-۱۱۴۳، بغوی، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۴/۱۷۳، خازن، الفتح، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۴/۱۴۷-۱۴۸، ملتقطاً)
	 آیت نمبر12 سے معلوم ہوا کہ اس سفر میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جانے والے 1400 حضرات سب کامل مومن ہیں  کہ اللہ  تعالیٰ نے انہیں  ’’مومنون‘‘ فرمایا ہے، اب جو بد بخت ان میں  سے کسی کے ایمان میں  شک کرے وہ اس آیت کا منکر ہے۔
{وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: اور جو اللہ اور اس کے رسول پرایمان نہ لائے۔} اس آیت میں  یہ بتایا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے اور ان میں  سے کسی ایک کا بھی منکر ہو، وہ کافر ہے اوراپنے کفر کی وجہ سے اس بھڑکتی آگ کا مستحق ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے تیار کر رکھی ہے۔
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ