Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
362 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: پیچھے رہ جانے والے دیہاتی اب تم سے کہیں  گے کہ ہمیں  ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں  نے مشغول رکھاتو اب آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کردیں ، وہ اپنی زبانوں  سے وہ بات کہتے ہیں  جو ان کے دلوں  میں  نہیں  ہے۔ تم فرماؤ اگر اللہ تمہیں  نقصان پہنچاناچاہے یا وہ تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اللہ کے مقابلے میں  کون تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہے؟ بلکہ اللہ  تمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔ بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز کبھی اپنے گھر والوں  کی طرف واپس نہ آئیں  گے اور یہ بات تمہارے دلوں  میں  بڑی خوبصورت بنادی گئی تھی اور تم نے (یہ) بہت برا گمان کیاتھا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول پرایمان نہ لائے تو بیشک ہم نے کافروں  کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔
{سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ: پیچھے رہ جانے والے دیہاتی اب تم سے کہیں  گے۔} جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حُدَیْبِیَہ کے سال عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ منورہ سے قریبی گاؤں  والے اور دیہاتی جن کا تعلق غِفار،مزینہ،جہینہ،اشجع اور اسلم قبیلے سے تھا، کفارِ قریش کے خوف سے آپ کے ساتھ نہ گئے حالانکہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانی کے جانور بھی ساتھ تھے جس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں  ہے، پھر بھی بہت سے دیہاتیوں  پر جانا بھاری ہوا اور وہ کام کا بہانہ بنا کر وہیں  رہ گئے اور حقیقت میں  ان کا گمان یہ تھا کہ قریش بہت طاقتور ہیں  ،ا س لئے مسلمان ان سے بچ کر نہ آئیں  گے بلکہ سب وہیں  ہلاک ہوجائیں  گے۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ان دیہاتیوں  کے بارے میں  خبر دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ کی مدد سے معاملہ ان دیہاتیوں  کے خیال کے بالکل خلاف ہوا ہے(اور جب ا س کی خبر پہنچے گی تو) انہیں  آپ کے ساتھ نہ جانے پر افسوس ہو گااورجب آپ واپس جائیں  گے اور پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں  پر عتاب فرمائیں  گے تو وہ معذرت کرتے ہوئے آپ سے کہیں  گے: ہمیں  ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں  نے مشغول رکھا کیونکہ عورتیں  اور بچے اکیلے تھے اور کوئی ان کی خبر گیری کرنے والا نہ تھا ، اس لئے ہم آپ کے ساتھ جانے سے قاصر رہے، تو اب آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کردیں  تاکہ اللہ  تعالیٰ ہمارے اس قصور کو معاف کر دے جو ہم نے آپ کے ساتھ نہ جا کر کیا۔اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ لوگ