روکا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا حق ہونا بالکل ظاہر ہونے کے بعد ان کی مخالفت کی، وہ اپنے کفر اور لوگوں کو روکنے کے ذریعے ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کے وہ اعمال برباد کردے گا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو مٹانے اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت میں کئے ہیں ، چنانچہ وہ اپنے مقاصد کو پورا نہیں کر سکیں گے ۔(قرطبی ، محمد ، تحت الآیۃ: ۳۲، ۸/۱۸۲، الجزء السادس عشر، خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۳۲، ۴/۱۴۲، صاوی، محمد ، تحت الآیۃ : ۳۲ ، ۵ / ۱۹۶۲ ، مدارک ، محمد، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۱۱۳۸، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۳۲، ۸/۵۲۲، ملتقطاً)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو۔} اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ کافروں نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کی اور اس آیت میں ایمان والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے رہیں ، چنانچہ اس آیت میں پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو!تم جواللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ہو اور ان کی اطاعت کرتے ہو اس ایمان اورا طاعت پر قائم رہو ،اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ریاکاری یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہو۔
عمل کو باطل کرنا منع ہے:
اس آیت میں عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے ،لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا