Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
310 - 764
{فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ: تو وہ قیامت ہی کاانتظار کررہے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ وہ کفار اور منافقین قیامت ہی کاانتظار کررہے ہیں  کہ ان پر اچانک آجائے کیونکہ توحیدو رسالت پر دلائل دئیے جا چکے،سابقہ امتوں  کے احوال ان کے سامنے بیان کر دئیے گئے،قیامت قائم ہونے اور اس کے ہولناک اُمور کے بارے میں  خبریں  دے دی گئیں  ،اس کے باوجود بھی اگر یہ ایمان نہیں  لائے تو اب قیامت کے دن ہی ان کا ایمان لانامتوقَّع ہے ، یہ لوگ قیامت سے غافل ہیں  حالانکہ اس کی کئی علامتیں  تو آہی چکی ہیں  جن میں  سے ایک نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری اور دوسری چاند کا دو ٹکڑے ہونا ہے،پھر جب قیامت آجائے گی تواس وقت ان کا نصیحت ماننا کہاں  مفید ہوگاکیونکہ اس وقت توبہ اور ایمان قبول ہی نہ کیا جائے گا ۔( تفسیرکبیر، محمد، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱۰/۵۱-۵۲، روح البیان، محمد، تحت الآیۃ: ۱۸، ۸/۵۰۹-۵۱۰، ملتقطاً)
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں  اور اے محبوب اپنے خاصوں  اور عام مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے گناہوں  کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا اور رات کو تمہارا آرام لینا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں  اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں  اور عام مسلمان مردوں  اور عورتوں  کے گناہوں  کی معافی مانگو اور (اے لوگو!)اللہ دن کے وقت تمہارے پھرنے اور رات کو تمہارے آرام کرنے کو جانتا ہے۔
{فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔} یعنی جب آپ نے جان لیا کہ قیامت قائم ہوتے وقت نصیحت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا تو آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں  جو