Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
309 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے ہدایت پائی تواللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمادی اور انہیں  ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔
{وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا: اور جنہوں  نے ہدایت پائی۔} اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے منافق کے بارے میں  بیان فرمایا کہ وہ سن کر نفع نہیں  اٹھاتا بلکہ وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اس آیت میں  مومن کا حال بیان فرما رہا ہے جس نے سن کر نفع اٹھایا اور ہدایت پائی، چنانچہ ارشاد فرمایا :وہ ایمان والے جنہوں  نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اُٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بصیرت،علم اور سینے کی کشادگی میں  مزید اضافہ فرما دیا اور انہیں  پرہیز گاری عطا فرمائی ۔پرہیز گاری عطا فرمانے سے مراد پرہیز گاری کی توفیق دینا ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ اُنہیں  پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا۔(خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۱۳۷-۱۳۸، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۱۳۵، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا صلہ مزید نیکی کی توفیق اور ہدایت کا صلہ مزید ہدایت ملنا بھی ہوتا ہے۔ یونہی علم سیکھنے کا صلہ مزید علم کی توفیق ملنا بھی ہے اور علم سیکھنے پر اللہ تعالیٰ مزید علم عطافرماتا ہے اور دیگر عُلوم کی بھی راہ دکھاتا ہے۔ 
فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةًۚ-فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَاۚ-فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو کاہے کے انتظار میں  ہیں  مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے کہ اس کی علامتیں  تو آہی چکی ہیں  پھر جب وہ آجائے گی تو کہاں  وہ اور کہاں  ان کا سمجھنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ قیامت ہی کاانتظار کررہے ہیں  کہ ان پر اچانک آجائے تو بیشک اس کی (کئی)علامتیں  تو آہی چکی ہیں  پھر جب قیامت آجائے گی توان کا نصیحت ماننا انہیں  کہاں  مفید ہوگا؟