پر اتارا گیا اور وہی ان کے رب عَزَّوَجَلّ کے پاس سے حق ہے ،تو ا س ایمان اور نیک اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہ بخش دئیے اور دینی امور میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما کر ان کی حالتوں کی اصلاح فرمائی ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا :یہاں حالتوں کی اصلاح فرمانے سے مراد یہ ہے کہ ان کی زندگی کے دنوں میں ان کی حفاظت فرمائی۔ (خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۱۳۳، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۱۳۲، ملتقطاً)
آیت ’’وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلوماتـ:
اس آیت سے 3باتیں معلوم ہوئیں :
(1)…قرآنِ مجید پر ایمان لانے کو جداگانہ ذکر کرنے سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید کی شان انتہائی بلند ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا ہے ان کی شان بھی بہت عظیم ہے ۔
(2)… ایمان کے لئے ان تمام چیزوں کو ماننا ضروری ہے جو حضورپر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ، اگر کسی نے ان میں سے ایک کابھی انکار کیا تو کافر ہوجائے گا۔
(3)… ایمان سے زمانۂ کفر کے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں ، مگر نیکیاں باقی رہتی ہیں ۔ یاد رہے کہ سَیِّئات گناہوں کو کہتے ہیں جبکہ حُقُوقُ الْعِباد کو ضائع کرنا دوسری چیز ہے،اس لئے ایمان لانے سے زمانۂ کفر کے قرض وغیرہ معاف نہیں ہوں گے بلکہ نو مسلم نے کفر کے زمانہ میں بندوں کے جو حقوق تلف کئے ہوں گے وہ اسے بہر حال ادا کرنے ہوں گے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے۔