Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
180 - 764
بانٹ دئیے جاتے ہیں  جو انہیں  سرا نجام دیتے ہیں  اور یہ تقسیم ہمارے حکم سے ہوتی ہے۔ بیشک ہم ہی سَیِّدُ المرسلین ،محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان سے پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجنے والے ہیں ۔( جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ص۴۱۰، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۴-۵، ۸/۴۰۴، ملتقطاً)
	یاد رہے کہ کئی احادیث میں  بیان ہوا ہے کہ15شعبان کی رات لوگوں  کے اُمور کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم جانتی ہو اس رات یعنی پندرہویں  شعبان میں  کیا ہے؟میں  نے عرض کی : یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس میں  کیا ہے؟ارشاد فرمایا’’ اس رات میں  اس سال پیدا ہونے والے تمام بچے لکھ دیئے جاتے ہیں  اور اس سال مرنے والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں  اور اس رات میں  ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں  اور ان کے رزق اتارے جاتے ہیں۔‘‘( مشکوۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب قیام شہر رمضان ، الفصل الثالث، ۱/۲۵۴، الحدیث: ۱۳۰۵)
	ان احادیث اور ا س آیت میں  مطابقت یہ ہے کہ فیصلہ 15شعبان کی رات ہوتا ہے اور شبِ قدر میں  وہ فیصلہ ان فرشتوں  کے حوالے کر دیا جاتا ہے جنہوں  نے اس فیصلے کے مطابق عمل کرناہوتا ہے جیساکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’لوگوں  کے اُمور کا فیصلہ نصف شعبان کی رات کر دیا جاتا ہے اور شبِ قدر میں  یہ فیصلہ ان فرشتوں  کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو ان اُمور کو سرانجام دیں  گے ۔‘‘ (بغوی، الدخان، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۱۳۳)
رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ(۶) رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاۘ-اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہی سنتاجانتاہے۔ وہ جو رب ہے آسمانوں  اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں  یقین ہو۔