Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
177 - 764
میں  قرآنِ مجید کی عظمت و شان بیان ہوئی ہے اور دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂزُخْرُفْکے آخر میں  ا س دن کا ذکر کیا گیا جس میں  کفار ِمکہ کو عذاب دئیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے اور سورۂ دُخان میں  ا س دن کا وصف بیان ہوا ہے کہ اس دن آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
حٰمٓۚۛ(۱) وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ(۲) اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان:  قسم اس روشن کتاب کی ۔بیشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں  اُتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: حٰمٓ ۔ اس روشن کتاب کی قسم۔بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتارا،بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں  ۔
{حٰمٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے،اس کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ: اس روشن کتاب کی قسم۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآنِ پاک کی قسم !جو حلال اورحرام وغیرہ ان احکام کوبیان فرمانے والاہے جن کی لوگوں  کو حاجت اور ضرورت ہے،بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں  اتاراکیونکہ ہماری شان یہ ہے کہ ہم اپنے عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ۔