Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
148 - 764
حاجت ہے جو شرعی مسائل سے جاہل اور ان کی حکمتوں  سے ناواقف ہونے ،یا ان کا علم رکھنے کے باوجود جان بوجھ کر سوشل،پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پران کے بارے شرعی تقاضوں  کے برخلاف بحث مُباحثہ کرنا اورشریعت کے مسائل کو اپنی ناقص عقل کے ترازو پر تول کر ان کے حق اور ناحق ہونے کا فیصلہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور عقائد و عبادات و معاملات وغیرہا پراحمقانہ بحثوں  کی وجہ سے یہ چیزیں  ایک مذاق بن کر رہ گئی ہیں  اوریہ ان کی انہی جاہلانہ بحثوں  کا نتیجہ ہے کہ آج عام مسلمانوں  میں  شریعت کے احکام کی وقعت ختم ہو تی،ان پر عمل سے دوری اور گمراہی سے قربت بڑھتی جا رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے، اٰمین۔ 
اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان:  وہ تو نہیں  مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایا اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے عجیب نمونہ بنایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عیسیٰ تونہیں  ہے مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایاہے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک عجیب نمونہ بنایا۔
{اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ: عیسیٰ تو نہیں  ہے مگرایک بندہ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  فرمایا کہ وہ  (نہ خدا ہے اور نہ خدا کے بیٹے، بلکہ خالص) اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں  جن پر ہم نے نبوت عطا فرما کر احسان فرمایا ہے اور ہم نے اسے بغیر باپ کے پیدا کرکے بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کاایک عجیب نمونہ بنایا ہے۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۹، ۴/۱۰۸-۱۰۹)
آیت ’’اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ‘‘ سے معلوم ہونے والے اَحکام:
	اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :
(1)… اس آیت میں ان عیسائیوں  کا بھی رد ہے جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدایا خدا کا بیٹا مانتے ہیں  اور ان یہودیوں  کا بھی رد ہے جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کے منکر ہیں ۔