دی تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی اور نہ کسی کتاب میں آئی ۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام توحید کی دعوت دیتے آئے اور سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ، اور تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے توحید کی دعوت دیتے رہنے کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ‘‘(نحل:۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو۔
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۶)فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے۔ پھر جب وہ اُن کے پاس ہماری نشانیاں لایا جبھی وہ ان پر ہنسنے لگے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو موسیٰ نے فرمایا: بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا توجبھی وہ ان پر ہنسنے لگے۔
{وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔} اس مقام پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ دوبارہ بیان کرنے سے مقصود کفارِ قریش کی گفتگو کی وجہ سے پہنچنے والی تکلیف پر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دینا ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے جیسا سلوک کیا کہ مال کی کمی اور معاشرے میں ان